میرا کاجل – سبيکہ عباس نقوی

میرا کاجل
سبيکہ عباس نقوی

تمہیں لگا میری آنكھوں کا کاجل
،صرف شرینگار ہے
.جس سے تم فیلمی گانے لکھو گے
تمہیں لگا میری آنكھوں کا کاجل تمہاری کاپیتالیست اور مسوجینیست
.میک اپ برانڈس کی دکاانوں میں بکتی ہوئی صرف اک مہنگی ڈبیہ ہے
تمہیں لگا میری آنكھوں کا کاجل میرے مرگنینوں کو
تمھارے عنریالیسٹک حُسْن کے پیمانوں کو میچ کرنے کے قابل بناتا ہے؟

    ،نہیں
یہ کاجل تمھاری سوچ سے پرے ھے۔
یہ وہ سیاح روشنائی ھے جسکو اپنی
بے شرمی کے قلم میں ڈال کر
لکھی ہیں ھم نے انقلاب کی تاریخیں۔
،میری آنکھوں میں لگی کاجل کی لکیریں وہ ہیں
جس سے میں نے تمھاری افسوسناک نزاکت کے وہم
کو گود دیا ہے۔
،اس سے کچھ انقلابی کویتائیں لکھی ہیں
تمھاری اوپریشن کی اینٹوں سے بنی دیواروں پر مزیدار میمس بھی بنائیں ہیں۔
،یہ وہ کاجل ہے جس کی چھینٹوں سے
میں نے تمھاری مزھبی شریعت کے دستاویزوں پر
دھبے لگا دیے ہیں۔
،اس کاجل کی سیلائی سے
،میں نے سبھیا معاشرے کی وراکھ پر
لکھے ہیں اپنی گنہگاری کے قصے۔

 ،میرے اِس کاجل کی ڈبی کو کبھی کھول کے دیکھو
اس میں بھری ہے
،میری عاشقی کی دھن
،میری کتابوں کا عکس
.میرے علم کی اک بڑی ہوتی بوند
اس میں کان لگا کر سنو، تو سنائی دے گی
،روح تک
،میرے فلسفوں کی گونج
،میری  عاشقی کی دستک
،اک طوفان کی آہٹ
،اٹھتی لہروں کی سرسراہٹ
.میری مباشرت کی پھسپھساہٹ

اور سنو! اِس کاجل پر کسی کی مونوپولی مت ڈھونڈنا
،یہ موجود ہے کئی آنكھوں میں
.راتوں کو عشق میں ڈبونے والی عورت کے پاس بھی اسکی اک ڈبی ہے
،اس رنڈی، جسکے بدن پر تم نے خود کو سیکا ہے
.اس نے بھی اپنے بلائوز میں اسکی اک ڈبی رکھی ہوئی ہے

،اِس ڈبی میں اپنی مرد پرستی کی کھرپی ڈالو
اورکھودتے جاؤ
.لیکن تم اسکی اننت تہہ تک پہنچ نہ پاؤ گے
،تم جو بائینریز میں جیتے ہو
میرے کاجل کے سترنگی رنگ
.کو سمجھ نہ پاؤ گے
،جب میں روئی تو اشک کے ساتھ
.گالوں پر پھیل گیا تھا
،گزری رات کی نشانی ہے کاجل
،ہماری گنہگار، اواری کہانی ہے کاجل
،ایرانی ہے کاجل، ترانی ہے کاجل
،ہجڑا بھی ہے، اور زنانی بھی کاجل
،میرے مقدر کی گرانی ہے کاجل
.لڑائی کی میرے زبانی ہے کاجل

،میرا کاجل میرے ذہن کی چنگاری سے جلے
.تمھارے بڑے بڑے فتووں اور پیمانوں کی راکھ سے بنا ہے
،میرا کاجل وہ منڈیر ہے جس پر ہاتھوں کو ٹیک کر
.تم میری آنكھوں کے کنوئیں میں جھانک سکتے ہو
جس کو اب تک صرف جھیل سمجھتے تھے
.اس سمندر کے اپار پانی میں نہا سکتے ہو
،ہمت کر لو
،کوشش کر لو
،مٹا نا سکو گے مٹا نا سکو گے
،یہ آنكھوں کا کاجل
،یہ خوابوں کا کاجل
،یہ سرمئی صبح کی آشا کا کاجل
،یہ عاشق کا کاجل
،یہ مشرک کا کاجل
.یہ ایمان والے کافر کا کاجل

،نا جانے کتنی گراں راتیں گزر گئی
،مگر یہ کاجل موجود ہے
،میری آنكھوں میں ابھی بھی
،گواہی دینے کے لیے
،کہ اسے کتنی جہد سے پرویا ہے
،میرے ددا کے کانپتے ہاتھوں نے
،اماں كے چلتے قلم نے
،کوریتا اسکوٹ نے، سرئیا ترزی کی بے-حجاب تقریروں نے، مانابی بندوپدھیاء کی پائل نے
،ایان حیرسی علی کے بدن کے زخموں نے، ساویتری کی ساڑی نے – فاطمہ کی کتابوں نے
،اور ان ہزاروں، لاکھوں
،عورتوں نے
،جن کے جوش کی حرارت موجود ہے اس میں
.تیری نظروں میں بس رہی میرے عشق کی آہٹ موجود ہے اس میں
یہ کاجل
،جب مٹے گا
،یا مٹایا جائیگا
.تو معاشرے کی آنكھوں میں کبھی نا مٹنے والا نشان چھوڑ جائیگا
،میرا کاجل
،سیاہ کاجل
،بےایمان کاجل
،گستاخ کاجل
.سیڈیشس کاجل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *