May 25, 2018

ذوالفقار بھٹو جونیئرکا کھل کراپنی جنسی شناخت کا اظہار

ہم مردانہ حاکمیت والے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں طاقت، جرات اور بہادری جیسی جنگجوانہ صفات مردوں سے منسوب ہوتی ہیں۔ خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے نتیجہ میں آج اگر ہم مجبور ہوکر باہمت خواتین کو داد بھی دیتے ہیں تو کہتے ہیں کے انہوں نے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔

یہ صرف ہمارے مشرقی معاشرے کی خصوصیت نہیں بلکے مغرب میں بھی ڈٹ جانے والی عورت کے لیے کہا جاتا ہے کہ ’واہ ! یہ بھی بالز رکھتی ہے‘ یعنی کہ اس عورت میں بھی مردوں والی خصوصیات ہیں۔ اگر معاملہ جنگ کا ہو تو کہا جاتا ہے’جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی‘ اور کسی کو بزدلی پر شرمندہ کرنا ہو تو چوڑیاں بھجوا دی جاتی ہیں کہ پہن لو یعنی عورت بن کر گھر بیٹھ جاؤ۔ عورتوں کے لیے شرم و حیا، سجنا سنورنا اور پاکدامنی جیسی صفات مختص کر دی گئی ہیں۔ اگر کوئی بیٹا امن پسند ہو، آوارہ گردی نہ کرتا ہو اور اس کی محلے میں کوئی شکایت نہ ہو تو کہا جاتا ہے ’اے دھیاں ونگراں پتر اے‘۔ مختلف جنسوں کے ساتھ منسوب یہ صفات پدر سری نظام کا  کیا دھرا ہے جہاں مرد حکمران اور عورت تابعدار ہے۔

مرد اور عورت کی جنسی تقسیم کے درمیان اور بھی لوگ ہیں جو اپنی شناخت منوانا چاہتے ہیں۔ ان میں ہم جنس پرست مرد و خواتین، دونوں جنسوں میں دلچسپی رکھنے والے مرد و خواتین،  اور مخنث مرد اور عورتیں شامل ہیں۔ میں  نے ٹرانسجینڈر کے لیے مخنث کی اصطلاح استعمال کی ہے اگر یہ مناسب نہیں ہے تو میں اپنی کم علمی  کی پیشگی معذرت چاہوں گا۔ (پڑھنے والے اپنے تبصرے میں اس حوالے سے میری اصلاح کر سکتے ہیں)۔

پاکستان میں روایتی مرادنہ صفات کا اگر تصور کریں تو سیاسی میدان میں آپ کو میر مرتضی بھٹو کا جوڑ شاید ہی ملے۔ دراز قد، ڈیل ڈول، بہادر، یار باش اور دشمنوں کے لیے موت کا پیغام، مرتضیٰ بھٹو میں وہ تمام گُن تھے جو کسی کو بھی معاشرے کی نظر میں آدمی کو مرد  بناتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریاستی اور غیر ریاستی  قوتیں اس کا ’گھونٹ بھرنا‘ چاہتی ہیں، مرتضیٰ اپنے ایک وفادار ساتھی کو تھانے سے چھڑانے کا سزاوار ٹھہرا اور پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ مرد کا بچہ تھا آخر۔

مرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر پر سات منٹ کی ایک مختصر ڈاکومنٹری بنائی گئی ہے جو 19 جون کو فیس بک پر رلیز کی گئی ہے۔

Asad Buttar 16

اس وڈیو میں ذوالفقار بھٹو جونیئر کی داڑھی بھی ہے اور ہاتھوں پر نیل پالش بھی لگی ہوئی ہے۔ وڈیو میں وہ کڑھائی کرتے اور ڈسکو دھن پر ادائیں مارتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کو انگریزی زبان میں کویر کہتے ہیں جس میں عورت اور مرد کی روایتی شناخت غائب ہو جاتی ہے، آپ دونوں ہو سکتے ہیں یا کچھ اور بھی۔ یہ وکھری ٹائپ کے لوگ ہیں۔ ماضی میں کویرکی اصطلاح ہم جنس پرستوں کے لیے بطور ہتک استعمال ہوتی رہی ہے لیکن آج کی دنیا میں یہ ایک ابھرتی ہوئی تحریک ہے جس میں کویر افراد اپنے طور پر زندگی گزارنے کی آزادی مانگ رہے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی کویر افراد اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور اپنے جیسے دوسرے افراد کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں جو ویسے سماجی دباؤ کے تحت دوہری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ذوالفقار بھٹو جونیئر بھی ’مسلم کویر‘ منظر کا حصہ ہیں۔

ڈاکومنٹری میں ذوالفقار بھٹو جونیئر پوچھتے  ہیں کہ ’مردانگی کا مطلب سختی اور طاقت ہی کیوں ہے؟ حالانکہ یہ نرماہٹ بھی ہو سکتی ہے اور نسوانیت بھی‘۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ چھ سال کے تھے جب ان کے والد کو قتل کیا گیا، اس سے پہلے دادا اور چچا کو قتل کیا گیا اور بعد میں پھوپی کو، یوں خاندان کی جو شناخت بنی وہ تشدد اور طاقت کے حوالے سے بنی، یہی پاکستان کی شناخت ہے اور یہی بھارت کی۔ ’اس سب نے ہم پر جو شناخت تھوپی وہ جنگ اور المیے کی پیدا کردہ ہے۔‘

اسی مرد کے بچے کے بچے کی بطور ’کویر‘(Queer) سامنے آنا بہت حیرتناک تو ہے۔ آپ ’الذوالفقار‘ کے جھوٹے سچے قصے سن کر جوان ہوئے ہوں اور ایک ظالم آمر کے خلاف مرتضیٰ بھٹو آپ کا اپنا چی گویرا ہو تو آپ اس کے بیٹے میں اس کا عکس دیکھنا چاہیں گے۔ جو تصویر سامنے آئی وہ یقینن بظاہراس کے بلکل برعکس ہے مگر در حقیقت ذلفقار بھٹو جونیئر اپنے والد کا ہی عقص ہیں۔

فلم میں ذوالفقار بھٹو جونیئر شناخت، شانتی اور شخصیت کے بارے میں شعور پھیلانے کی اپنی سیاسی کوششوں پر بات کرتے نظرآتے ہیں۔ ذلفقار اپنی سیاسی جدوجہد اس ہی بہادری سے کر رہے ہیں جو ان کے خاندان کی روایت ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ ان کی جدوجہد کا طریکا اپنے دادا اور والد صاحب کے جوشیلے انداز سے مختلف شائری اور آرٹ ہے۔ ایک پاکستانی مسلمان ہونے کے باوجود عورت اور مرد کی دورنگی تقسیم کے خلاف اور جنسی شناخت کے بارے میں اس دلیری سے بات کرنا میر مرتضیٰ بھٹو کے بےباک انداز اور دلیری کی یاد دلاتا ہے۔

موروژی سیاست سے اپنا اختلاف برقرار رکھتے ہوئے اس بات کی امید کرتے ہیں کہ ذوالفقار علی جونئیر کے اس طرح کھل کر اپنی جنسی شناخت کا اظہار کرنے سے پاکستان میں پسی ہوئی ایل جی بی ٹی اور کویر کمیونٹی کو آواز ضرورملے گی۔

  بذریعہ: سُجاگ نقطہ نظر                                 ترمیم: ایپفا ایڈیٹر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ذوالفقار بھٹو جونیئرکا کھل کراپنی جنسی شناخت کا اظہار

by All Pakistan Feminists' Association time to read: <1 min
0