رومانی عورتوں کے موضوع پر – از ایَنی لبغوُں

از ایَنی لبغوُں (۱)

ترجمہ: نعمان نقوی

یہ محض آسانی کے لیئے لوگ ماضی میں “رومانی عورتوں” کا ذکر کرتے آئے ہیں، یا ہم آج بھی ان کا ذکر اس انداذ میں کر رہے ہیں۔  چونکہ حقیقتاً “رومانی عورت” کی کوئی قسم نہیں۔  مزید، یہی صفت تو ان مُٹھی بھر عورتوں کا فسوں ہے، جو غیَمبوٴ (۲) کے حُکم سے پہلے ہی، عشق کی ایجادِنوَ کا علم رکھتی تھیں۔

پہلے پہل ہماری مُڈ بھیڑ ان کی شخصیات اور ان کے رویوں کی کثرت ہی سے ہوتی ہے: واقعی بیَٹیِنا (۳) کی شورانگیزی، سوُزیَٹ گوَں تاغ (۴) کے جنون، کارولیِنا شِلےگَل (۵) کی زنده دلی، کارولیِنا فوَن گوُنڈَروڈا (۶) کی مایوسی، زوفی فوَن کوُن (۷) کی معصوُمیت، اور ہینری ایٹا فوگَل (۸) کی دیده دلیری میں کوئی مماثلت دریافت کرنا ناممکن ہے۔  پھر بھی، چاہے وة کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہوں، اِن تمام جوان عورتوں میں یہ بات مشترک ہے کہ ان میں کسی کردار ادا کرنے جیسی ذره برابر بھی بناوٹ نہیں۔  اس کا تعلق انکساری کے سوال سے نہیں ہے۔  اس کی بہترین مثال بیَٹیِنا ہے، جس کے بارے میں رِلکے نے لکھا کہ:

“اُس عجیب بیَٹیِنا نے اپنی تمام تصانیف سے ایک ایسے عالم کو تشکیل کیا ہے کہ جو کسی توسیع شده دنیا کی مانند ہو۔  شروع ہی سے اس نے اپنے آپ کو ہر چیز میں اِس طرح غرق کیا کہ جیسے وه پہلے ہی سے اپنی موت سے آگے نکل چکی ہو۔  ہر طرف اُس نے اپنے آپ کو وجوُد کی گہرایوں میں داخل کیا، اُس کا حصہ بنی، اور اُس پر جو کچھ گذری، وه سب اَبَد تک قدرت میں ہی موجود تھا۔۔۔”

اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ تعریف جوکہ بیَٹیِنا پر اتنی ٹھیک بیٹھتی ہے، رومانیت کی تمام عورتوں کے لیئے بھی کم یا زیاده، اِس خاص حد تک صحیح ہےکہ وه ہونے پر کوئی محنت خرچ نہیں کرتیں: وه بس ہیں۔  اور اُن کا وجود، چاہے وه رفیقانہ ہو یا معصومانہ، گستاخانہ ہو یا مجنونانہ، اِسکینڈل ہو یا المیہ، ہمیشہ، ہمیشہ احسن ہوتا ہے۔

اور دراصل وه اِنہی معٰنی میں اُس ثانوی کردار سے مکمل طور پر مستثنٰی ہیں جسے عورتوں کے لیئے مفکرانہ معاملات میں عام طور پر مخصوص کیا گیا ہے، اور خاص طور پر آنے والے وقت میں کیا جائے گا۔  وه رومانیت کا دل ہیں، اور اس کے مرکز میں ان کا وہی مقام ہے جو کہ اُن کے دوستوں، اُن کے عاشقوں، اور اُن کے بھایوں کا ہے۔  آزادیِ نسواں کی ہنگامہ خیز اور مضطرب تاریخ میں مجھے کوئی اور شخصیات نظر نہیں آتیں جو اِس کمال آزادی سے متحرک ہوں۔  کچھ ایسا ہے کہ جیسے اِن عورتوں میں وزن نہ ہونے کی صفت ہو، جو صرف آزادی ہی کی پیروی کر سکتی ہو۔  وزن کی وه غیرموجودگی کہ جس کا فہمِ عام نے، اُسے کمزوری سمجھ کر، جلد ہی اُس کا خاکہ اُڑایا۔  ہمیں رومانی عورت کا عام تاثر معلوم ہے: نازک، لِجلِجی، زوال پذیر۔  یعٰنی اُن کی حقیقت کے بالکل برعکس۔  چونکہ وزن کی یہ غیرموجودگی دراصل بہتات کی علامت ہے۔  یہ اُس کھیل کی علامت ہے جو موت تک کھیلا گیا ہو۔  لمحے کی شدت کی علامت۔  جینے کی بے چینی کی علامت۔  وزن کی یہ غیرموجودگی اُس زندگی کی لطافت ہے جو زندگی کو لوَٹا دی گئی ہو، کہ جس سے وه سب کچھ چھین لیا گیا ہو جو وه روک کر اپنے پاس رکھتی ہے، جو جُدائی پیدا کرتی ہے۔  “ایسا ہے جیسے میں ہر اُس چیز میں دھکیل دی گئی ہوں جس پر میری نظر پڑتی ہے،” بیَٹیِنا کہا کرتی تھی۔

اور یہاں دو سوال اُٹھتے ہیں:

(۱) ایک ایسے وقت جب نسواں پرستی کا تصور صحیح طرح سے وجود میں بھی نہ آیا تھا،  یہ کیسے ہوا کہ چند جوان عورتوں نےاپنے آپ کو برجستہ طور پر، خوفناک آزادی سے وه ہونے کی جان کی بازی لگاتے پایا کہ جو وه ہیں؟

(۲) یہ کیسے ہوا کہ موجوده نسواں پرستوں نے، جو ویسے تو اپنے پرُکھوں کی تلاش میں رہتی ہیں، اب تک رومانیت کی اِن عورتوں کے وجود کو باقائده سینسر کیا ہے؟

یہ دو سوال دراصل جُڑے ہوئے ہیں۔  اور رومانیت کی ان عورتوں کے اردگرد پھیلی ہوئی خاموشی مجھے بالکل قدرتی سی لگتی ہے۔  چونکہ بیَٹیِنا کے اس اقرار سے کہ وه کھڑے کھڑے خواب دیکھتی ہے، کوئی رویہ اُس رویئے سے زیاده متضاد نہیں ہو سکتا کہ جو اپنے احتجاج کی تصدیق میں مصروف، آج کی نسواں پرست خواتین کا ہے، کیا کہ ان کے جلے پھپھولوں کا ذکر۔  واقعی وه لوگ جو جنس کی بنیاد پر ناقابلِ عبور اختلاف کا نظریہ تیار کر رہے ہوں، ایسی زندگیوں میں اپنے آپ کو کہاں پہچان سکتے ہیں جن کا مقصد عشق کی تلاش میں اپنے آپ کو کھو دینا یا پا جانا ہو؟  اور کیا ہر جارحیت پسند نظریہ دراصل یہ نہیں چاہتا کہ اُس گھبراہٹ کُن غیریت کو دور رکھے جو شخصیت کی گہرائیوں میں کارفرما ہوتی ہے؟  کیا یہی وه عجیب چیز نہیں جو منافع پرستی اور نظریاتی کارآمدی کی سیاست کی نفی، اور زندگی کی شاعرانہ سخاوت کا اثبات کرتی ہے؟  تو پھر فرق واضح ہو جاتا ہے: شخص کی گہرائیوں میں کارفرما یہ غیریت ہی شناخت کے عمل کو لگام دیتی ہے، یعٰنی وه عمل جو دوسرے کی طرف، غیر از خود کی طرف، کُھلنے کا راستہ بند کرتا ہے۔  باالفاظِ دیگر، یہ غیریت اُس تمام فکر کو ایک ہی قبیل جانتی ہے جو ایک ناقابلِ تسخیر اندرونی ھجر کے خلاف ہے۔  ایک ایسا اندرونی ھجر جو کارولیِنا فوَن گوُنڈَروڈا کی جیسی بغاوتِ کُل کی شکل بھی لے سکتا ہے، کہ جس نے دریائے رائیِن کے کنارے اپنے آپ کو چاقو سے مارنے سے پہلے لکھا: “میرے اندر ایک ایسی یاس سمائی ہوئی تھی کہ جس کو اپنی منشا کا علم نہ تھا، اور میں ہمیشہ تلاش میں رہی اور جس کی تلاش میں تھی وه نہ پا سکی”۔

اِس بغاوت کے بارے میں، کہ جس کے بغیر آزادی کا تصور محض سماجی و اقتصادی ترقی کا ذریعہ بن کر ره جاتا ہے، کہ جس کے بغیر عِشق ایک ذاتی کمزوری بن کر ره جاتا ہے: اِس بغاوت کے بارے میں، اِس پیاسِ کُل کے بارے میں، ہم موجوده نسواں پرست کلام میں ایک لفظ بھی نہیں سُنتے۔  اور کم از کم جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ وه قطعی حَرف ہے جو اس کلام کے خلاف لگایا جانا چاہیئے۔  چونکہ میرا خیال ہے کہ چند جوان مردوں کے ساتھ اس بغاوتِ کُل کو مشترک پا کر ہی رومانیت کی عورتوں کو اپنی آزادی کی ایجاد کا علم ہوا۔

اور میں اِس بات کی بھی قائِل ہوں کہ وه یہی بغاوتِ مشترک تھی کہ جس نے فریِڈرِش شِلےگَل کو بنیادی اور قدرتی طور پر مساوات کے سوال کا فیصلہ کرنے کی قابلیت دی: اُس نے اُن تعصبات کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی بشارت دی “جن کی وجہ سے مردوں اور عورتوں کے درمیان حقوق کی غیرمساوات کا ایک ایسا نظام قائم ہے جو اُس کے لیئے مُہلِک ہے کہ جس کو وه نوازتا ہے”۔  پر ساتھ ساتھ یہی بغاوتِ مشترک ہے جو ان افراد کو عشق کی طرف رجوع کرنے پر اُکساتی ہے، کہ عشق اپنے آپ سے بُلند ہونے کی مُضطرب شخصی تلاش کے اعٰلی ترین راستوں میں سے ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ رومانیت کی عورتوں کو، باوجودِ کُل اور خِلافِ کُل، عشق کی ایجادِنوَ کا شرف حاصل ہے۔  چونکہ اُنہوں نے اُس چیز کی تلاش کی کہ جس کی عورت نے پہلے کبھی تلاش نہ کی تھی: عشق کا علم بن جانا، اور علم کا عشق بن جانا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) ایَنی لَبغوُں فرانسیسی مصنف، شاعر، تنقیدنگار اور مفکر ہیں۔  ۱۹۶۳ میں وه آندرے بریَتوں کے مشہور سَرریِئَلِسٹ ادبی حلقہ میں شامل ہوئیں، اور ۱۹۶۹ میں اس کے اختتام تک شامل رہیں۔  وه ایک منفرد آواز اور نکتہ نظر رکھتی ہیں، جس کا اظہار اُنہوں نے غیَموَں روُسیَل سے لے کر سابق یوُگوسلاویِا کی جنگ تک کئی موضوعات پر کیا ہے۔  انگریزی میں ترجمہ ہونے والی اُن کی کتابوں میں ‘ساڈے: ایک اچانک اتھاه’ اور ‘حقیقت کا زیاد: سلطنتِ تخیُل پر جدید دنیا کا حملہ’ شامل ہیں۔  وه پیرس میں رہتی ہیں۔  اُمنگ نے نسواں پرستی کے ایک انوکھے انداز پر اُن کے اِس مضمون کا انتخاب اردو نسوانی شاعری کے اہم رجحانات سے اس کی مماثلت کی بنیاد پر کیا ہے۔

(۲) آرتھر غیَمبوٴ انیسوی صدی کا اہم فرانسیسی شاعر تھا، جس نے بیسویں صدی کی شاعری پر وسیع اثرات چھوڑے۔

(۳) بیَٹیِنا فوَن آرنِم انیسویں صدی کی جرمن مصنف، ناشر، راگ ساز، گُلوُکار، مصوِر، نوجوان فنکاروں کی سرپرست، اور سماجی کارکُن تھیں۔

(۴) سوُزیَٹ گوَں تاغ نےاٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل کے مشہور جرمن شاعر فریِڈرِش ہولڈَرلیِن کو بہت متاثر کیا، اور وه ہی اس کی شاعری کی اہم کردار ڈیِوٹیِما کے پیچھے اصل کردار ہیں۔

(۵) کارولیِنا شِلےگَل اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل کی اہم مفکر تھیں۔

(۶) کارولیِنا فوَن گوُنڈَروڈا اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل کی اہم شاعر تھیں۔

(۷) زوفی فوَن کوُن نے اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل کے اہم رومانی شاعر اور مفکر نووالِس کو متاثر کیا۔

(۸) ہینری ایٹا فوگَل اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل کی اہم مفکر تھیں۔  انہوں نے مشہور جرمن رومانی مصنف، ہائینرش فون کلائیسٹ  کے ساتھ مل کر خودکشی کا عہد کیا تھا۔

بزریہ: امنگ پوٹری

Source: Umang Poetry

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *