امر گیت – عطٰیہ داؤد

شاعر: عطیہ داوُد

جس دھرتی کی قسم کھا کر

تجھ سے عہد نبھانے کا وعدہ کیا تھا،

اس دھرتی کو ہمارے لئے قبر بنا دیا گیا ہے

دیس کے تمام پھول توڑ کر

بارودکاشت کردیا گیا ہے۔

اور خوشبو ازیت گاہ میں آخری سانسیں لے رہی ہے۔

جن گلیوں میں، تیرا ہاتھ تھام کر

امن کی تال پر میں نے صدیوں رقص کیا تھا۔

وہاں موت کے سوداگر نے اپنے پنکھ پھیلادیئے ہیں۔

سوسی کی شلوار، گج لگا چولا سرخ چزیا

میں نے صندوق میں چھپادیئے ہیں۔

اپنی پہچان کو اپنے منہ میں رکھ کر نگل گئی ہوں۔

راہ چلتے آسمان پر چودھویں کا چاند دیکھ کر

میں تجھے بھٹائی کا کلام نہیں سنا سکتی۔

کلاشنکوف کے دھماکوں سے میرا بچہ

سوتے سوتے چونک اٹھتا ہے

میں اسے لوری سنانے کے لئے لب کھولوں

تو گھر والے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر

خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہیں۔

اخبار ڈائنوں کے ناخن بن کر

ہر روز گوشت نوچ رہے ہیں میرا۔

اور سیاست دانوں کے بیان

طوطے کی مانند لگتے ہیں۔

میں خوف کی دلدل میں ہاتھ پیر مارنا نہیں چاہتی۔

اے میرے دیس کے تخلیق کار

ایسا لکھ ڈال کوئی امرگیت

کہ جبر کی سب زنجیریں توڑ کر

میں چھم چھم، چھم چھم، ناچ اٹھوں۔

English translation can be found at APFA English blog and Sindhi poetry can be found at Umang Poetry

One Reply to “امر گیت – عطٰیہ داؤد”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *