ایچ ای سی لاہور ریجنل کیمپس، بلی کا بچہ اور ٹھرکی بوڑھا چوکیدار

پاکستان واپس آئے مجھے ہفتہ ہو گیا ہے۔ مصروفیت اتنی رہی کہ میں ہائیر ایجو کیشن کمیشن میں اپنی ڈگری کی ایکویویلنس کے لئیے اپلائی نہ کر سکی۔پرسوں میں نے ایچ ای سی کی ویبسائٹ پر ڈگری ایکویویلنس کا پورا طریقہ پڑھا اور کل صبح صبح میں سب ڈاکومنٹس لے کر ایچ ای سی لاہور ریجنل کیمپس پہنچ گئی۔

گیٹ پر موجود گارڈ نے آنے کا مقصد پوچھا۔ میں نے بتایا کہ ڈگری کی ایکویویلنس لینی ہے۔ اس نے کیا جی یہاں ویٹنگ ایریا میں آ جائیں۔ میں جا کر بیٹھ گئی۔کچھ دیر بعد ایسے محسوس ہوا کہ پائوں کو کوئی چھو رہا ہے۔ دیکھا تو بلی کا بچہ۔ میں ایک دم اٹھی اور سیٹ بدل لی۔ادھر ادھر دیکھا۔ تقریباَ سب ہی بلی کی طرف متوجہ تھے۔ کمرے کے درمیان میں چوکیدار بھی چپ چاپ بیٹھا نظر آیا۔ شائد اسے بلی کے بچے کی موجودگی کا علم بھی تھا مگر وہ پوری ڈھٹائی سے اسے نظر انداز کئیے بیٹھا تھا۔ بلی کا بچہ کچھ دیر پورے ہال میں گھومتا رہا پھر دروازے کے قریب باہر جانے کی آس میں بیٹھ گیا۔ایک لڑکے نے دروازہ کھول دیا تو وہ باہر چلا گیا۔

 سوا آٹھ ٹکٹ ملنا شروع ہوئے۔ پہلے ڈگری اٹیسٹیشن والوں کو بلا کر ٹکٹ دئے گئے اس کے بعد ایکویویلنس والوں کو ٹکٹ دئیے گئے۔ہم اپنے اپنے ٹکٹ لے کر بیٹھ گئے۔ نو بج گئے مگر سٹاف کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ پندرہ منٹ بعد سٹاف آیا اور آہستہ آہستہ اٹیسٹیشن والوں کو بلانا شروع کیا گیا۔ میں نے جا کر کلرک سے پوچھا کہ ایکویویلنس والا بندہ کب آئے گا۔ اس نے کہا کہ 9 بجے کے بعد کبھی بھی آ سکتا ہے۔ آپ انتظار کریں۔

مزید آدھا گھنٹہ گزرا میں نے پھر اس سے پوچھا آگے سے جواب ملا کہ پتہ نہیں کیوں نہیں آیا۔ بارش بھی تو ہو رہی ہے کہیں چھٹی پر نہ ہو۔ میں نے کہا چھٹی پر ہے تو اس کی جگہ کسی اور کو بٹھائیں ۔اس نے آگے سے کہا کہ جی ہو سکتا ہے اس کی جگہ کسی اور کو بٹھا دیں۔ آپ انتظار کریں۔

میں پھر انتظار کی سولی پر لٹک گئی۔ مزید آدھے گھنٹے بعد جب میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو میں دوبارہ کلرک کے پاس گئی اور کہا کہ اگر اس نے نہیں آنا تو اس کی جگہ کسی اور کو بٹھائیں۔ اس نے آگے سے پوچھا آپ کا ٹکٹ نمبر کیا ہے۔ میں نے کہا ایک ہزار سات۔ اس نے کہا آپ ایڈمن بلاک میں چلی جائیں۔ میں وہاں گئی تو پتا چلا ایکویویلنس والے تو یہاں بیٹھے ہیں اور پندرہ کے قریب طلباء پہلے سے وہاں انتظار کر رہے تھے۔

Courtesy: Tehreem Azeem

ایک لڑکے نے بتایا کہ سب وہاں سے پوچھ پوچھ کر یہاں آ رہے ہیں۔ مجھے کافی عجیب لگا کہ اگر ایکویویلنس والوں نے یہاں ہی آنا ہوتا ہے تو دو گھنٹے ہمیں غلط جگہ کیوں بٹھایا گیا؟خیر یہاں میری باری آئی۔ میرے اوریجنل ڈاکومنٹس دیکھے گئے اور اس کے مطابق ان کی فوٹوکاپی پر مہر لگائی گئی۔ پھر مجھے کہا گیا کہ یہ سب ایچ ای سی اسلام آباد بھیج دیں۔ یہ میرے لئے نیا مرحلہ تھا۔ مجھے لگا تھا کہ سارا پراسس یہیں مکمل ہوگا کیونکہ ویب سائٹ پر تو ایسے ہی لکھا تھا۔ شائد ایچ ای سی کو اپنی ویب سائٹ اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

یہاں سے فارغ ہوئی تھی تو بھائی کا فون آ گیا کہ بابا تمہیں لینے آ رہے ہیں۔ میں گیٹ کے قریب ان کا انتظار کرنے لگی۔ میرے کھڑے ہونے کی دیر تھی کہ گیٹ پر موجود بوڑھے چوکیدار کی گردن میری طرف مُڑ گئی اور نظریں میرے اوپر گڑ گئیں۔ میں نے ان باریش بابا جی کو کئی بار دیکھا وہ پھر بھی ڈھٹائی سے مجھے دیکھتے رہے۔پتا نہیں وہ بابا جی اپنی پوتی کی عمر کی لڑکی کو گھور کر اپنی کون سی ادھوری حسرتیں پوری کر رہے تھے۔

تھوڑی ہی دیر میں میرے والد کی گاڑی باہر آ کر رکی اور میں اس طرف بڑھ گئی۔ بوڑھے چوکیدار نے جب گاڑی میں میرے والدین کو دیکھا تو اپنی نظریں مجھ پر سے ہٹا لیں۔یہاں مجھے اندازہ ہوا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی کوئی عزت نہیں ہے۔ اگر عورت کی عزت کی جاتی ہے تو وہ کسی مرد کی نسبت سے کی جاتی ہے۔ آپ کی زندگی میں کوئی مرد ہے تو آپ قابلِ عزت ہیں ورنہ آپ ایک ایسا شہد کا ڈبہ ہیں جو چاہے کھلا ہو یا بند مکھیاں اس کے گرد منڈلاتی رہیں گی۔خیر قصہ مختصر گاڑی میں بیٹھ کر میں نے خود کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور اس سب اذیت کو ایک چھٹانک صبر کے ساتھ گھول کر پی گئی۔

مصنف کے بارے میں:

 

تحریم عظیم لاہور شہر سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ حال ہی میں چین سے صحافت میں ڈگری مکمل کر کے آئی فیمینست آیڈیولوجی کی حامی ہیں۔ وہ خواتین کی معاشرے کی زنجیروں سے آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔ ان کو HumSub پہ پڑھا جا سکتا ہے۔

یہ مضمون HumSub سے لیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *