پاکستانی مردوں کو غیرت کا ناجائز حمل ٹھہر گیا

میرا تعلق ایسے ملک سے ہے جہاں بچپن ہی سے لڑکیوں کی اخلاقی تربیت پر ضرورت سے زیادہ توجہ د ی جاتی ہے۔ اس پر حیرت بھی نہیں، کیوں کہ جہاں عورتیں نام نہاد مردانہ غیرت کی علامت ہوں، ان کی ذرا سی لغزش سے پگڑیوں کے شملے نیچے ہوجاتے ہوں، ان کی جانب اٹھنے والی غلط نظروں سے خاندانی وقار ملیا میٹ ہو تا ہو، ایسے معاشرے میں بچیوں کو تربیت کے نام پر بے جا سختیوں تلے پروان چڑھانا نہایت ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ چاہے ان سختیوں سے لڑ کیوں کا اعتماد متزلزل ہوتا رہے، شخصیت مسخ ہو کر رہ جائے، خوشیاں دل کی کال کوٹھری میں ہی دفن ہوجائیں، اس سے کسی کو غرض نہیں ہوتی، جن کو مردوں کی غلامی کرنی ہو ان کی اپنی شخصیت کا ہونا یانہ ہونا کوئی معنی بھی کہاں رکھتا ہے؟

بچپن کی چھاؤں سے بلوغت کی دھوپ آتی نہیں کہ پہرے پہ پہرے! دروازے پر کھڑا دیکھ لیا تو لتاڑا، اوڑھنی سینے سے ڈھلکی تو گُھرکی لَگائی، منہ اندھیرے جگاکر اس کے ادھورے خوابوں کو سلا دینا ضروری گردانا، مہمانوں کے ساتھ بیٹھنے کا حق غیرتسلیم شدہ جانا، بے اختیار جو پورا منہ کھول کے ہنس دی تو گھورتی تیز نگاہوں نے ہنسی چھلنی کردی، ڈرامے، فلمیں، ناول اس کے لیے شجرِممنوعہ تو بنائے ہی گئے، ساتھ ساتھ سرخی پوڈر اور رنگ برنگے کپڑوں کے شوق کو بھی کنوارے پن کے صریح اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا، پاؤں پھیلا کر بیٹھے تو ٹوکی جاتی ہے، وقت بے وقت سو نے سے روکی جاتی ہے۔ چند سالوں کے احسان کے بعد اسکول سے روک کر باورچی خانے میں جھونکی جاتی ہے۔ مدرسے میں استانی ہو یا گھر میں ماں سب سے ایک ہی بات سن سن کر جوان ہوتی ہے کہ مرد کے آگے زبان کھولنا تو بڑی ہی بے شرمی کی بات ہے۔

اب ذرا اسی معاشرے کی گود میں پل کر جوان ہونے والے مردوں کے حال پر غور کیجیے۔ جتنا زور یہاں لڑکیوں کی تربیت پر ہے کیا اس کا ایک فی صد بھی لڑکوں کی اخلاقی تربیت پر دیا جاتا ہے؟ کیا مردوں کے ذہنوں میں بچپن سے ہی عورتوں کے معاملے میں ایک خاص کینہ نہیں بھرا جاتا؟ لڑکیوں کو اچھی بیوی او بہن بننے کا درس گھول کر پلانے والے گھروں میں بیٹوں کو کبھی بٹھا کر نہیں سمجھایا جاتا ہے کہ بہ حیثیت شوہر اور بھائی ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ لڑکیوں کو پردے کے نام پر برقعے میں بند کرنے والے لوگ تھوڑا سا وقت نکال کر لڑکوں کو عورت کی عزت اور حرمت کا پاس رکھنے کا سبق نہیں پڑھاتے۔ لڑکیوں کے ہاتھ سے کتابیں چھیننے والے بزرگ بیٹوں کو بند کمرے میں دوستوں کے ساتھ فحش فلمیں دیکھتے ہوئے پا کر یوں آنکھیں موند لیتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، لڑکے اس اقوال زریں کے سائے میں بڑے کیے جاتے ہیں کہ مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔ شرم، حیا، اخلاق جیسی صفات سے ان کا کیا لینا دینا۔ یہ اوصاف تو صرف عورتوں سے عبارت ہیں۔

ان مردوں کے ہاتھوں، عورتوں کے ساتھ ہونے والے جنسی مظالم اب کس سے ڈھکے چھپے ہیں؟ میروالاں کی دھول اڑاتی سڑکیں مختاراں مائی کی بے بسی کا نوحہ آج تک پڑھتی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کی تاریک راتوں کو ڈاکٹر شازیہ کی کرب ناک چیخیں اب بھی یاد ہیں۔ پنچایت کے حکم پر تسلیم سولنگی پر چھوڑے گئے کتوں کی غراہٹ خیر پور کے چوباروں میں مسلسل گونجتی ہے، خیبر پختون خوا کے باغیرت لوگوں نے ڈیرہ اسمعیل خان سے تعلق رکھنے والی شاداں کی تذلیل سے چھے سال پہلے بھی وہ سنسان دوپہر دیکھی، جب ایک بیٹے کے جرم کی سزا میں ماں کو بے لباس کر کے سڑکوں پر گھسیٹا گیا، لیکن زمین پھٹی نہ آسمان لرزا۔ کس کس کو روئیں ٹوبہ ٹیک سنگھ کی شازیہ کے ساتھ ہونے والے ظلم پرسر پیٹیں یا گوجرانوالہ کی صبا کا غم منائیں۔ تیزاب سے جھلسے چہروں کا کرب پڑھیں یا غیرت کے نام پر قتل ہونے والیوں کا ماتم کریں۔

پاکستان میں عورتوں کے اکثریت میں ہونے کے باوجود، کیا یہاں آج تک کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا ہے کہ عورتوں نے آپس کے جھگڑے میں کسی بے گناہ مرد کو بے لباس کر کے سڑکوں پر گھمایا ہو۔ کبھی سنا کہ جرگے کی با اثر عورتوں نے کسی مظلوم مرد کی اجتماعی عصمت دری کا فرمان جاری کیا ہو۔ کسی زمیندارنی نے اپنے بیٹے کا قرآن سے نکاح کروادیا ہو، بہنوں نے بھائی کی پیشانی پر بندوق رکھ کر جائداد میں سے اس کا حق معاف کروالیا ہو؟ کبھی نہیں! آخر کیوں، یہ واقعات عورتوں کے ساتھ ہی کیوں پیش آتے ہیں۔ تعداد میں مردوں سے زیادہ ہونے کے باوجود عورتوں پر ہی ظلم کے یہ پہاڑ کیوں توڑے جاتے ہیں۔ مقامِ حیرت ہے کہ مردانہ اقلیت زنانہ اکثریت پر اس قدر حاوی ہو چکی ہے کہ اکثریت کی جان، مال، عزت آبرو سب بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔

سنا تھا، جہاں انسان بستے ہیں وہاں سے درندے ہجرت کر جاتے ہیں، وجہ تو اب سمجھ آئی ہے کہ انسان نما درندوں کے سامنے حقیقی درندے بھی رکنے کا خطرہ مول نہیں لیتے۔ عورتوں کے معاملے میں تو یہ شیطان صفت اور انسان نما درندے ہر گز اکیلے نہیں ہوتے بلکہ نام نہاد مذہبی اور معاشرتی روایتیں ان کی پشت ٹھوکنے کو ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ یوں یہ انفرادی ہوکر بھی اجتماعی گناہ قرار پاتا ہے۔ اس کی سزا بھی معاشرے کے تمام تماش بینوں کو ملنی چاہیے اور سب سے پہلے ان کو ملنی چاہیے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو تو غیرت کا درس رٹوایا لیکن بیٹوں کی صورت میں درندوں کو مزید توانا کیا۔ ان درندوں کی تربیت کون کرے گا؟ اب کون یہاں قابل اعتبار رہا؟

حال تو یہ ہے کہ کبھی خود کو ایک مذہبی عالم کہلانے والے چلتی گاڑی میں گارڈز کی موجودگی میں ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ اپنا شوق پورا فرماتے ہوئے ویڈیو بھی بنواتے ہیں، تو کبھی دوسرے نسوانی حسن کی پوجا میں مدہوش بلکہ غرق پائے جاتے ہیں، اسلام کے اور بہت سے ٹھیکے داروں کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ میں بھی وہی ننگی فلمیں پائی جاتی ہیں، جن کو دیکھ دیکھ کر مردوں نے اب فلمی دنیا سے باہر بھی مظلوم عورتوں کے جسم سے لباس نوچنے شروع کر دیے ہیں، اور وہ کہ جن بے چاریوں کو بچپن سے ہی سکھایا گیا کہ مرد کے سامنے زبان کھولنا تو بڑی بے شرمی کی بات ہے، حیران ہیں کہ اب کریں تو آخر کیا؟ کس سے گلہ کریں؟ کس سے منصفی چاہیں؟

وقت کا واحد تقاضا یہی ہے کہ وقت کو عورتیں خود بدلیں۔ ظلم سہنے سے انکار کردیں۔ خاموشی کے قفل کاٹ کر اتنا شور مچائیں جیسے پرندے اپنا گھونسلا توڑے جانے پر مچاتے ہیں۔ اب کہنا چھوڑدیں کہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے۔ اس معاشرے کی لگامیں ان مردوں کے ہاتھوں میں کیسے دی جا سکتی ہیں، جن کی عزت کا معیار ہی دوہرا ہے، جو محض شک کی بنیاد پر اپنی عورتوں کی زندگی کا تو چراغ گل کردینے میں ذرا تامل نہیں کرتے لیکن جب دوسری عورت سڑک پر رسوا ہو تو تماشا لگا کر پیچھے چلتے ہیں، ویڈیو بناتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جو مرد خود اندر سے درندے ہوں وہ بھلا کیسے سماج کی روایتوں کی پاس داری کر سکتے ہیں؟ کیسے عورتوں کے قوام بن سکتے ہیں؟ ان مردوں کو غیرت کا ناجائز حمل ٹھہرگیا ہے جس کے باعث میرا ملک دنیا میں عورتوں کے لیے تیسرا بڑا خطرناک ملک بن چکا ہے۔ یہ سفاک مرد اپنی جہالت کے ہاتھوں یقیناً زنانہ غیرت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہیں۔

یہ مضمون HumSub سے لیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *